نئی دہلی 3اپریل(ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا)وزیر اعظم نریندر مودی نے وزارت اطلاعات ونشریات کے اس فیصلے کو پلٹ دیا جس میں ہدایات جاری کر کہا گیا تھا کہ فرضی خبریں چلانے والے صحافیوں کی منظوری منسوخ کی جائے گی ۔وزیر اعظم نے کہا ہے کہ تمام مقدمات کی سماعت صرف پریس کونسل ہی کرے گی۔مبینہ صحافیوں نے اسے جمہوریت کی فتح قرار دیا ہے اور مودی کی ستایش کی ہے ۔ صحافیوں کی جانب سے آج اس فیصلے کے خلاف شام چار بجے پریس کلب آف انڈیا، نئی دہلی میں ایک میٹنگ کا بھی انعقاد کیا جانا تھا۔وزیر اعظم کی ہدایات کے فوری بعد اطلاعات و نشریات کی وزارت نے اپنا حکم واپس لے لیا اور اس سلسلے میں ایک سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ دو اپریل، 2018 کو جعلی نیوز سے متعلق حکم کو واپس لیا جاتا ہے۔کانگریس سمیت اپوزیشن نے بھی اس فیصلے کو جمہوریت کے لئے مہلک بتاتے ہوئے حکومت سے اسے واپس لینے کی مانگ کی تھی؛ لیکن اطلاعات و نشریات کے وزیر اسمرتی ایرانی نے اپنے فیصلے کو صحیح بتایا تھا۔قابل ذکر ہے کہ فرضی خبریں روکنے کے اقدامات کے تحت حکومت نے پیر کو کہا تھا کہ اگر کوئی صحافی فرضی خبریں نشر کرتا ہوا یا ان کا پروپیگنڈہ کرتے ہوئے پایا جاتا ہے تو اس کی منظوری مستقل طور پر منسوخ کی جا سکتی ہے۔ وزرات اطلاعات و نشریات نے ایک بیان میں کہا کہ صحافیوں کی منظوری کے لئے نظر ثانی ہدایات کے مطابق اگر فرضی خبر کی اشاعت یا نشر کی تصدیق ہوتی ہے تو پہلی بار ایسا کرنے کی صورت میں صحافی کی منظوری چھ ماہ کے لیے معطل کی جائے گی اور دوسری بار ایسا کرتے پائے جانے پر اس کی منظوری ایک سال کے لئے معطل کی جائے گی۔ اس کے مطابق تیسری بار خلاف ورزی کرتے پائے جانے پر صحافی (خواتین / مرد) کی منظوری مستقل طور پر منسوخ کر دی جائے گی۔وزارت نے کہا کہ اگر فرضی خبر کا تعلق پرنٹ میڈیا سے وابستہ ہے تو اس کی تمام طرح بھی شکایت بھارتی پریس کونسل (PCI) کو بھیجی جائے گی اور اگر یہ الیکٹرانک میڈیا سے متعلق ہے تویہ شکایت نیوز براڈ کاسٹر ایسوسی ایشن کو بھیجی جائے گی تاکہ تعیین ہو سکے کہ خبر جعلی ہے یا نہیں۔ وزارت نے کہا تھا کہ ان ایجنسیوں کو 15 دن کے اندر خبر کے فرضی ہونے کا تعیین کرنا ضروری ہے ۔